موجاں ای موجاں
(معذرت کیساتھ )
دوستوں تے سجنوں !!آج اگر کوئی مجھے سے پوچھے کہ قراردادِ پاکستان لاہور کا مقصد کیا ہے تو میرا جواب تو جناب عالی یہ ہو گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں ایوان عدل میں کھڑی پولیس کی بکتر بند گاڑی؟ اور وہاں پر کھڑی پولیس کا وکیلوں پر پتھراؤ قرارداد پاکستان ہے اور وزیر علیٰ پنجاب ، آرمی چیف آف اسٹاف و صدر پاکستان قرادداد پاکستان ہیں ۔
وہ میثاق جمہوریت جس کے وعدے پہلے دن سے ٰلیکر آج تک وفا نہ ہوسکے۔کیونکہ کوئی پارٹی کسی سے مخلص نہیں ہے ۔ہر ایک اپنے اپنے مفاد اور اقتدار کی جنگ لڑ رہا ہے ۔
قائداعظم محمدعلی جناح کی وفات کے بعداس قرارداد کا جو حشر ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ ایوب خان سے لیکر مشروف اور زرداری تک سب کے سب اس وعدے سے مکر گئے ہیں۔ سیاسی بے وفاؤں کاملک جو 62 سال کا ہو گیا ہے مگر میچور نہ ہو پایا۔ کئی معروف شخصیات نے اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا۔جب پچاسویں سالکرہ منائی گئی تو بڑے بڑے ادیبوں ، نامہ نگاروں نے اس پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا۔ اگر یہ ملک پاکستان کوئی آدمی ہوتا تو پچاس سال کی عمر ہونے تک عقل کے ناخن ضرور لے چکا ہوتا۔یعنی میچور ضرور ہو گیا ہوتا۔ لیکن کیا کیا جائے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس میں لچرپن ، کنبہ پروری، چوہدراہٹ پن زیادہ پنپتی رہی اور آخر کار ہم اس موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں اور دو کشتیوں میں سوار ہو کر ترقی کی راہ ڈھونڈ تے دیکھائی دیتے ہیں مگر حالات کیسے بھی ہوں کہ اپنا ہو یا پرایا ہر کوئی ہمیں ہی گالیاں دیتا ہوا سنائی دیتا ہے دوسروں کیلئے لڑنے والوں کو آج اپنا بچا ؤ کرنا مشکل نظر آتا ہے اورقیادت کاغذوں میں لپٹے ہوئے نقشوں میں ترقی کے اونچے اونچے گراف قوم کو دکھانے کیلئے ہر پل بے تاب دیکھائی دیتی نظر آتی ہے۔ ریزو فند سے لیکر غربت کے تمام رکارڈ ایک ڈمی کے علاوہ اس سے نریادہ نظر نہیں آتے۔
اگر ماضی پر نظر ڈوڑائی جائے 1940 ء میں تمام صوبوں جنہیں ا سٹیٹس کا نام دیا گیا تھا رضاکارانہ طور پر الحاق شامل ہونے کو ہی قرارداد پاکستان ہی کہا گیا تھا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کا مطا لبہ کرنے والوں کو ملک کا باغی اور غدارِ پاکستان کہا گیا۔ پاکستان کے حکمرانوں اور اصلی اور وڈے چوہدریوں ، وڈے سائیں وغیرہ وغیرہ کو ان کا ملک سے کیا ہواعہد یاد دلانے والے لوگ قابل عزت ٹھہرائے گئے۔جو ملک کے محب وطن تھے وہ نسل در نسل غدار کہلائے گئے۔ جو بیرون ملک حکمرانوں کے غلام ابن غلام تھے وہ محبان وطن و حفظان ملت بنا دئے گئے۔ جو حقدار تھے ان کو پس پردہ ڈال کر سرداروں،گوروں سے جاگیریں حاصل کرنے والے صدرِ پاکستاں ، وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھانے لگے۔مختلف میلوں میں حاکموں کی بگھیاں جن لوگوں نے گھوڑے بن کر کھینچی تھیں وہ پاکستان کی قسمت کی ٹرین چلانے لگے۔ یعنی پاکستان کیا بنا تاریخ کی الٹی کنگا بہہ نکلی،
لیاقت علی خان کے قتل کے بعد اس ملک پاکستان کا جو حشر ہوا اسے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ اقتدار کی دوڑ نے کنبہ پروری کو اس قدر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ اب مریٹ پر آنے والے ہنز مند وں کا ہر وہ دروازہ بند کر ڈالا جسے بابائے قوم محمد علی جناح نے اپنے ہاتھوں سے کھولا تھا ۔وہ جہاں جاتے اپنی تقاریر میں بار بار یہی فرماتے رہے کہ اگر پاکستان کو اسلامی سلطنت کے طور چلانا ہے تو کنبہ پروری اپنے اند ر مت بلنے دینا اور اسے جڑ سے اکھاڑ دیں۔مگر ان 62 سالوں میں ایسی کوئی پالیسی نہیں اپنائی گئی جس سلطنت کا خواب علامہ نے دیکھا اور تعبیر بابائے قوم محمدعلی جناح نے دی لیکن اسے ہمارے سیاستدانوں نے اپنے پاؤں تلے روند ڈالا ۔اور اس خواب پہلے دو ٹکرے کر ڈالے اب بچے خوچے خطہ کو ریزہ ریزہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
کہنے کو آدمی معاشرہ تشکیل دیتا ہے اور معاشرہ انسان سازی کا فریضہ ادا کرتا ہے۔یہ ایک ایسا مسلمہ اصول ہے جس کا اطلاق ہر قوم پر ہوتا ہے ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ خودرو جھاڑی کے مانند ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں ایک دوسرے کا دامن حریفانہ انداز میں کھینچنے کی روایت بہت مستحکم ہے۔ یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ سیاست دان انداز سیاست سے نابلد ہیں حکمران اسلوب جہاں بیانی سے ناواقف ہیں سپاہ سالار سپاہ گری کے بجائے سیاست گری کرتے ہیں سپاہی نگرانی کرنے کے بجائے گرانی کا باعث بنے ہوئے ہیں حکیم حکمت سے عاری ہیں ڈاکٹر دست شفا سے محروم ہیں۔ وکلا ء انصاف کی فراہمی کے بجائے راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔جج جو ڈیشنل مائنڈ سے عاری ہیں۔ غرض یہ کہ آوے دا آوا ہی بگڑہوا ہے ۔الزام کس کس کو دیں سبھی اپنے فرائض منصبی سے غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
حضرات آج اگر ہم پاکستان میں کسی بھی سرکاری محکمے کو کھگالیں تو سوائے تباہی کے ہمیں کچھ نظر نہیں آتا۔مگر اس کے بر عکس اگر لیڈروں پر نظر دوڑائیں ،ان کی زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو دیکھیں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان دینا کا زمیر ترین ملک ہے ہمارے بڑے بڑے لیڈر تیس تیس ہزرا کے سوٹ پہنتے ہیں ، پچاس ہزار ڈالر کی گھڑی قلائی پر سجاتے ہیں۔خزانے پر نظر ڈالیں تو بحٹ اروبوں روپے خسارے کا پیش کرتے ہیں۔
لب کشائی پر بڑے بڑے آرڈی ننس پیش کئے جاتے ہیں حقیقت بیان کرنا جرم ہے۔ووٹ لینے ہوں تو طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں ۔ایک smsپر 14 سال قید اگر کوئی بیرون ملک سے بھیجے تو اس کے خلاف انٹرپول کے ڈریعے گرفتاری کا حکم صادر کر دیا جاتا ہے ۔اگر عوام کی بھلائی کی بات ہو تو بجٹ نہیں ملکی خزانہ خالی ہے ۔اپنی مراعات کی خا طر اسمبلی میں چاہے تین ممبر ہوں سب کچھ جائز قرار دے دیا جاتا ہے ۔یہ ہمارا حق کہہ کر قراداد تین منٹ میں پاس کر لی جاتی ہے ۔مہنگائی کی روک تھام کا بل سامنے آئے کاربن ڈائی آکسائیڈ بن کر اڑ جاتا ہے ۔عوام اس کا دھواں بھی پکڑنہیں پاتی۔
قومی خزانے کی لوٹ مار ہر دور میں ہوتی رہی ہے ۔قیام پاکستان کے بعد کچھ عرصہ تک حکمرانوں کی شاہ خرچیاں باورچی خانے تک محدود تھیں اور آج عوام کے سامنے ہیں۔ عوامی مینڈٹ لینے والی پارٹی جو بار بار میڈیا میں یہی رٹ لگائے رکھتی ہے کہ ہمیں 16 کروڑ عوام کی حمایت حاصل ہے ان کے وزیروں کی حالت یہ ہے کہ وہ بیرونی دوروں میں ہزاروں ڈالر کھنگرو نائٹ میں ہوا کردیتے ہیں اور دوسری طرف لاکھوں بے گھرہونے والے افرادکا پُرسانِ حال کوئی نہیں۔(سبحان اﷲ)
یحیی خان کے دور میں ایوان صدر کا کچن بڑی حد تک شاہی خاندان کا باروچی خانہ بن گیا تھا۔ اور اس کو نقطہ کمال تک بھٹو صاحب کے دور میں حا صل ہوا۔ جو اس سے پہلے نہ تھا۔ یحیی خان سے لیکر نواز شریف اور اب زرداری ،گیلانی صاحب تک ہم اگر ایوان اقتدار کے دسترخوانوں کا جائزہ لیں تو ہم بڑی آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اب کچن کا بجٹ کروڑو ں میں جاتا ہے اس سے قبل حکمران اپنے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے ۔اوراسکے مقابلے میں میاں صاحب کشمیری تپاک اور پنجاب کی روایتی مہمان نوازی کا مجسمہ تھے اپنے دور اقتدارمیں انہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے لوگوں کو جس قدر دعوتیں دیں ۔ایسی مثال پاکستانی ٹاریخ میں کسی دوسرے وزیر اعظم نے نہیں پیش کی۔ اپنے وزارت اعظمیٰ دور کے بارے میں میاں نواز شریف کا دعویٰ تھا کہ وہ کھانے کے سارے بل اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔لیکن جس ملک میں گونگے بہرے لوگ رہتے ہوں ، وہاں کے وزیر اعظم ہاوس میں ہر سال 15کروڑ روپے چولہوں میں پھونک دیئے جاتے ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔بھلے وہاں رہنے والے عوام بھوک و افلاس سے تنگ آکر خود کشی کرتے پھریں۔
عوام سے ووٹ حاصل کرنے ہوں تو عوام طاقت کا سر چشمہ ہیں ۔اگر ان کی بھلائی کیلئے کام کرنا پڑ جائے تو قومی خزانہ خالی ہوتا ہے ۔تعلیم کیلئے بجٹ نہیں ۔ صحت کیلئے ہستپال نہیں ہیں۔اگر Hospital ہیں تو ڈاکٹر نہیں ہیں ایسا ہونے کے باوجود دو ، دو کروڑ جیالوں کو دے کر انہیں خوش کرنا بے حد ضروری ہے۔ اپنے اربوں ڈالر بیرون ملک رکھ کر باہر سے بھیک مانگتے پھرتے ہیں اپنی جیب نوٹوں سے بھری پڑی ہے اور حال یہ کہ متاثریں کی مدد کیلئے عوام کے آگے گڑ گڑاتے ہیں اپنے سالانہ گوشواوں میں ۲۰۰ روپے ظاہر کر دیئے جاتے ہیں۔8, 8 میڑ لمبی کاریں
آج کل پیپلز حکومت کا یہ حال ہے کہ ووٹ عوام نے دیئے اور نوزا جیالوں کو جارہا ہے۔یہ بات تو کچھ اسطرح سے ہو رہی کہ کسی نے چھوٹے درجے پہ مرغیوں کا فارم بنایا تاکہ گھر کا خرچہ چلتا رہے ۔مگر اس کی مرغیاں انڈے نہیں دیتی تھیں۔ وہ کسی سیانے کے پاس مشورہ لینے پہنچ گیا۔سیانے نے پوچھا بھئی آپ کے پاس مرغیاں کتنی ہیں تو اس آدمی نے جواب دیا کوئی 40 مرغیاں ہوں گی۔تو سیانے نے پوچھا بھئی مرغے کتنے ہیں۔ تو اس شخص نے جواب دیا ۔کوئی نہیں ہے۔
سیانے نے بڑے زور دار قہقہہ لگایا اور کہنے لگا مرغیاں انڈے کیسے دیں گی ۔
کچھ دن کزرے تو سیانہ موقع واردات پر پہنچا تو میزبان نے بڑے تباک سے اس کا استقبال کیا اور جھٹ سے مرغی خانہ دیکھانے لے گیا۔ میزبان نے دیکھا کہ40 مرغیوں کیساتھ دو مرغے صحن میں گشت کر رہے ہیں۔ سیانے نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ جناب میں نے تو ایک مرغا رکھنے کا مشورہ دیا تھا ۔ مگر آپ نے دو کیوں رکھ لئے ۔میزبان نے مرغیوں کے درمیان گردن تان کر چلتے ہوئے مرغے کو دیکھا اور فخر سے کہا جناب مرغا میں نے ایک ہی رکھا ہے دوسرا تو کنسلئٹ ہے۔
بابکل اسی طرح پاکستان میں اب دو ہزار ایک سو سترہ کنسلٗٹٹ کام کر رہے ہیں۔جن میں 720 غیر ملکی ہیں اور باقی ماندہ غیر ملکی نما پا کستانی ہیں اور ان میں سے کسی کی تنخواہ بھی 10 ہزار ڈالر سے کم نہیں ہے۔(سبحان ا ﷲ) اور دوسری طرف پاکستا نی عوام میں بے روزگاری کا یہ حال ہے کہ بھوک افلاس کے ہاتھوں تنگ آ کر لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں اور حکومت کا یہ حال ہے ۔خزانے خالی ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہے ۔
اب تو لوگوں نے یہ بھی کہنا شروع کر دیاکہ سرکار اب متاثرین سوات کیساتھ ساتھ متاثرین لوڈ شیڈنگ کی بھی مدد کیجئے ، مثلا پانی،ہاتھ سے چلنے والے پنکھے تولیہ،رومال،ڈیوڈرنٹ، اِ چ گارڈ کریم ،لالٹین ، نیند کی گولیاں بھی اور ساتھ ساتھ طفلِ تسلیوں کی بھی اشد ضرورت ہے۔

Back to Conversion Tool

Back to Privious Page